کبھی کبھار میں سوچتی ہوں، میری ماں جیسی عورتیں اس بوجھ کو اپنے ننھے کندھوں پر کیوں اٹھاتی ہیں؟
اور جواب اس وقت آیا جب میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ میری ماؤں کی آنکھوں پر جھریاں نہ صرف عمر بڑھنے کی علامت ہیں بلکہ ایک مشکل سفر کا نشان بھی ہیں۔ یہ طویل نیند سے محروم راتوں، گھر کے بارے میں فکر کرنے والے دن، بچوں، روزمرہ زندگی کی پریشانیوں کا نتیجہ ہے۔ ہر جھری میں ایک کہانی ہوتی ہے، ایک یاد جو ماں چپکے سے اپنے دل میں محفوظ رکھتی تھی۔
جب میں جوان تھا، تو عمر بڑھنے کی علامات سے بے خبر تھا۔ مجھے صرف یہ نظر آتا تھا کہ میری والدہ صحت مند ہیں، محنت کر رہی ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ مسکراتی رہتی ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے محسوس کیا کہ اس مضبوط ڈھانچے کے نیچے وہ کمزور ہو چکی ہے۔ اب ان جھریوں کو دیکھنا میرے چہرے کا ایک ناقابل فراموش حصہ بن گیا ہے۔
میں نے اس کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کر دی، خاموشی سے دیکھ رہا تھا کہ وہ کس طرح ہر پرانی کتاب کا صفحہ کھولتی ہے یا کیسے ان کے ہاتھ پتلے ہو جاتے ہیں اور میری شرٹس کو آہستہ آہستہ جوڑ دیتی ہیں۔ یہ جھرریاں نہ صرف وقت کے نشان تھے بلکہ بے انتہا محبت کا اظہار بھی تھے۔
وہ کبھی شکایت نہیں کرتی، نہ ہی مجھ سے کچھ مانگتی ہے۔ اسے بس اتنا چاہیے تھا کہ مجھے خوش دیکھے، یہ جان کر کہ میں محفوظ ہوں۔ شاید اس کی محبت ایک ایسی ندی تھی جو آہستہ بہہ رہی تھی۔ نرم اور ثابت قدمی کے ساتھ۔ ہمیشہ وہاں موجود لیکن پھر بھی بہت واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔
مجھے سردیوں کے وہ دن یاد ہیں جب میری والدہ رات بھر آگ پر بیٹھی رہتی تھیں اور سرخ پھلیاں پکاتی تھیں۔ ان میں سے ہر ایک نہ صرف کھانا بنتا تھا بلکہ دل و جان بھی۔ صبح سویرے اُٹھنے والی ماں کو دیکھ کر میرا دِل تڑپ جاتا تھا۔ لیکن اس وقت میں بہت چھوٹا تھا کہ جو کچھ ہوا اسے سمجھ سکوں۔ یہ میرے بڑے ہونے تک، اپنی زندگی کا سامنا کرنے تک نہیں ہو سکتا تھا۔
دھند کی لہر
پلئیکو کا راستہ
میرے لئے، یہ جھرریاں ایک ایسی زندگی کی علامت ہیں جو معنی خیز اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے کبھی بھی رکنے والی زندگی نہیں گزاری۔ اس کے باوجود بہت سی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی میں نے اپنے آپ کو پرسکون اور نرم دل رکھا۔
ان جھریوں نے مجھے ایک خوبصورت خاتون کی تصویر بنائی جو میری زندگی میں آئی۔ اور اب جب میں بڑی ہوچکی ہوں، ہر بار ماں کے چہرے پر جھرریاں دیکھتی ہوں تو مجھے غم یا پریشانی محسوس نہیں ہوتی بلکہ فخر اور شکرگزاری کا احساس ہوتا ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ ماں کی جھریاں میری زندگی کا عکس تھیں۔ ان جھریوں نے مجھے بڑھنے، پختہ ہونے اور مضبوط ہونے کے راستے پر گامزن کیا۔ اور میں جانتی تھی، چاہے کتنی ہی دوری کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ میرے لیے ایک ٹھوس سہارا رہے گی، جہاں میں کسی بھی صورت حال میں واپس جا سکتی ہوں۔
میں نے آپ کی ماں سے محبت کرتا ہوں اور اس کے پیار سے بھرا ہوا جھرریاں!
ماخذ: https://baogialai.com.vn/nep-nhan-cua-me-post315422.html









تبصرہ (0)